ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ممکنہ تحلیل، احتجاج جاری
8 اپریل 2011بین الصوبائی رابطوں کے وزیر سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تحلیل سے بیرون ملک زیر تعلیم طلبا کی تعلیم متاثر نہیں ہوگی۔ اسی دوران جمعہ کے روز HEC کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید لغاری نے کہا کہ وزارت خزانہ نے ان کے ادارے کو سات ارب 70 کروڑ روپے کی مالی ادائیگی فوری طور پر روک دی ہے۔
کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو آگاہ کر دیا ہے کہ آئندہ ان کی تنخواہوں اور اخراجات کے لیے کوئی رقوم دستیاب نہیں ہوں گی۔ یوں ملک بھر میں قائم 71 یونیورسٹیوں کے عملے کی تنخواہیں اور ان جامعات کے روز مرہ کے اخراجات متاثر ہوں گے۔ ڈاکٹر لغاری کے مطابق ایچ ای سی کے ساتھ موجودہ سلوک سے پاکستان اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے چلا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’بہت عرصے بعد ایچ ای سی کی میرے خیال میں برینڈنگ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ ڈگری برابر ہے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے جو کہ برطانیہ یا یو ایس اے کی ڈگری ہوتی ہے، تو پوری دنیا ہماری اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔ اگر ایچ ای سی نہیں ہو گا تو پاکستان کی ڈگری پوری دنیا میں مشکوک ہو جائے گی اور کوئی پاکستانی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کرے گا۔ میرے خیال میں اتنے زیادہ نقصانات ہوں گے کہ آپ تصور نہیں کر سکتے اور گزشتہ آٹھ سال میں ہم نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہم پھر واپس آٹھ سال پہلے والی پوزیشن پر چلے جائیں گے۔‘‘
قائد اعظم یونیورسٹی میں زیر تعلیم پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم محمد ارشد کے مطابق انہیں گرانٹ روکے جانے سے پہلے ہی مالی مشکلات کا سامنا تھا، جو اب مزید بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’میں پی ایچ ڈی کے چھٹے سمسٹر میں ہوں۔ میری پی ایچ ڈی تقریباﹰ مکمل ہے۔ لیکن جب سے یہ اعلان ہوا ہے، ایچ ای سی نے ہماری فنڈنگ روک لی ہے اور ہمارا ریسرچ پروجیکٹ بھی رک گیا ہے۔ ہم اس سے کافی متاثر ہو رہے ہیں اور پورے ملک میں جتنے بھی سکالرز ہیں، کافی پریشان نظر آ رہے ہیں۔‘‘
اس وقت دنیا بھر کے 28 ممالک میں 5 ہزار سے زائد پاکستانی طلبا ایچ ای سی کے ذریعے مختلف اسکالرشپس پر زیر تعلیم ہیں۔ ایچ ای سی کے قیام کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنا، بیرون ملک پڑھنے والے طلبا کی مالی اعانت اور یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کی تصدیق بھی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کو ارکان پارلیمان کی جعلی ڈگریوں کا بھانڈا پھوڑنے کے جرم میں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایچ ای سی کی تحلیل کے خلاف ملازمین کے ساتھ مل احتجاج کرنے والے طلبا کا کہنا ہے:
’’خدا کے لیے ایچ ای سی کو تحلیل نہ کریں۔ اسے ایک یونٹ کے طور پر کام کرنے دینا چاہیے۔ تا کہ ہم آگے سے آگے جا سکیں۔’’
ایک اور طالبہ کا کہنا تھا، ‘‘پی ایچ ڈی سب سے زیادہ کوالیفائیڈ لوگ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آپ یہ جان لیں کہ جب پی ایچ ڈی کے لیے فنڈنگ نہیں ہو گی تو ہم سڑکوں پر آئیں گے تو آپ کے ملک میں ریسرچ کون کرے گا۔ ہائر ایجوکیشن کون لے گا۔ اور آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ سمپل بی اے پاس سیاستدان ہمارے مستقبل کا فیصلہ کریں گے کہ ایچ ای سی کو ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
ایک اور طالبعلم نے کہا: ’’اس وقت جو ادارہ بچا ہے وہ صرف ایچ ای سی ہی ہے کیونکہ اس وقت ایک تو گورنمنٹ اپنے طور پر کوشش کر رہی ہے کہ ان کو جی ڈی پی کی فنڈنگ نہ دے لیکن بین الاقوامی فنڈنگ کی وجہ سے ان کو لالچ ہے وہ یہ فنڈنگ بھی ہم سے ہتھیا لیں۔‘‘
حکومت کا کہنا ہے کہ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیمی اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جانا تھے اور ایچ ای سی کی تحلیل بھی اس آئینی ترمیم کے تحت ہی کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد
ادارت: مقبول ملک