يورو زون کے قرضوں کے بحران پر صلاح مشورے جاری
24 اکتوبر 2011زير غور مسائل ميں سب سے زيادہ اہميت يونان کے قرضوں، بينکوں کو ديواليے پن سے بچانا اور يورو زون کے مقروض ممالک کی مدد کے ليے قائم کيے گئے کئی سو ارب کے فنڈ ميں مزيد توسيع ہے۔
يورپ ميں قرضوں کے بحران کی شدت اور اس بارے ميں اختلافات کے باوجود يورو زون کے دو بڑے ممالک جرمنی اور فرانس اس سربراہی کانفرنس کے ايک خوشگوار اجتماع ہونے کا تاثر دينے کی بھر پور کوششيں کر رہے ہيں۔ جرمن چانسلر ميرکل نے کہا: ’’ہم مل جل کر قرضوں کے بحران کا ايک مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہيں۔‘‘۔ فرانسيسی صدر سارکوزی نے کہا: ’’يورپی فنڈ ميں کئی گنا اضافے پر بڑی حد تک اتفاق پايا جاتا ہے۔‘‘ اس کی تيکنيکی تفصيلات طے کی جا رہی ہيں، جن پر ابھی جرمن پارليمنٹ ميں بھی بحث ہونا باقی ہے۔
تاہم چانسلر انگيلا ميرکل کو بھی معلوم نہيں کہ مجوزہ طريقے کامياب ہوں گے يا نہيں: ’’ماہرين بھی يہ بالکل صحيح طور پر نہيں کہہ سکتے کہ کون سے اقدامات سو فيصد صحيح ہيں، کيونکہ ہم ايک نئے ميدان ميں قدم رکھ رہے ہيں، اورچونکہ يورو زون جيسی کرنسی يونين کی کوئی مثال ماضی ميں نہيں ملتی۔‘‘
برسلز ميں اگلے بدھ کو پھرجمع يورو زون کے رياستی اور حکومتی سربراہان اس پر متفق ہو چکے ہيں کہ بينکوں کے اپنے سرمائے ميں اضافہ ضروری ہے تاکہ وہ يونان اور ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کے قرضوں کے ايک حصے کو معاف کردينے کے نتيجے ميں ہونے والے نقصانات کو پورا کر سکيں۔ اس مقصد کے ليے بنکوں کو 100 ارب يورو کی ضرورت ہو گی۔ اگر وہ سرمائے کی کھلی منڈی ميں يہ رقم حاصل نہيں کر سکتے تو يورو زون کے ممالک اپنے عوام کے ٹيکسوں کی رقوم کے ذريعے ان کی مدد کو پہنچيں گے۔ ابھی تفصيلات کا علم نہيں ہے۔
امکان ہے کہ پرائيويٹ اور رياستی بنک يونان کے قرضوں کا 50 تا 60 فيصد حصہ معاف کردينے پر تيار ہو جائيں گے۔
مالياتی منڈيوں ميں يورو زون پر اعتماد کو بحال کرنے اور اسپين، اٹلی اور فرانس کے رياستی بانڈز کی خريد جاری رکھنے کے ليے خاص طور پر اٹلی ميں اقتصادی اصلاحات ضروری ہيں۔ فرانس کے صدر سارکوزی نے کہا: ’’ اٹلی کے تمام سياسی، مالی اور اقتصادی فيصلہ سازوں کے احساس ذمہ داری پر ہمارا اعتماد برقرار ہے۔‘‘
بدھ 26 اکتوبر کو برسلز ميں يورپی سربراہ کانفرنس کے دوسرے مر حلے ميں اہم فيصلوں کا امکان ہے۔
رپورٹ: بيرنڈ ريگرٹ، برسلز / شہاب احمد صديقی
ادارت: مقبول ملک