یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی لیکن خطرہ برقرار
20 ستمبر 2016خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیس ستمبر بروز منگل تک سن دو ہزار سولہ کے دوران بحیرہ روم کو عبور کر کے یورپ پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت زیادہ کم ہے لیکن مہاجرت کے اس سفر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ برس اس سمندری راستے سے یونان اور اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ بیس ہزار تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق رواں برس البتہ سمندر عبور کرنے والوں کی موت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
سن دو ہزار سولہ کے دوران اب تک سمندر میں لاپتہ یا ڈوب کر ہلاک ہو جانے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد تین ہزار دو سو اکیس ہے، جو گزشتہ پورے برس کے مقابلے میں صرف پندرہ فیصد ہی کم بنتی ہے۔ گزشتہ برس سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہو جانے والے افراد کی تعداد تین ہزار سات سو اکہتر تھی۔
اس برس اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار چار سو گیارہ بنتی ہے۔ سن دو ہزار پندرہ کے پہلے نو ماہ کے دوران بھی اتنے ہی مہاجرین اٹلی کے ساحلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
دوسری طرف یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اس برس مجموعی طور پر ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سات سو پچاس افراد یونانی جزائر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
گزشتہ برس اسی عرصے میں وہاں پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد کے مقابلے میں اس برس ستاون فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کے لیے ترکی اور یورپی یونین کی مہاجرین سے متعلق ڈیل کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔