کرغز حکومت نسلی فسادات کی تحقیقات پر آمادہ
20 جون 2010دریں اثناء ملک کے شورش زدہ جنوبی علاقوں میں مزید فسادات بھڑکنے کے پیش نظر وہاں نافذ کی گئی ایمرجنسی کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے۔ کرغزحکام اور امدادی تنطیموں کے مطابق کرغز اور ازبک قبائل کے مابین پر تشدد فسادات کے نتیجے میں کم ازکم دو ہزارافراد ہلاک جبکہ ایک ملین سے زائد شدید متاثرہوئے ہیں۔ اطلاعات کےمطابق تقریبا تین لاکھ افراد کرغزستان میں ہی مہاجرت پر مجبور ہوئے جبکہ کوئی ایک لاکھ افراد ہمسایہ ملک ازبکستان کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔
ہفتہ کے دن کرغز عبوری حکومت نے اعلان کیا کہ وہ جنوبی شہر اوش اوردیگرعلاقوں میں 25 جون تک ایمرجسنی کا نفاذ جاری رکھے گی۔ خون ریز فسادات کے بعد ان شدید متاثرہ علاقوں میں گیارہ جون کو ہنگامی حالت نافذ کی گئی تھی۔
کرغزحکام سے ملاقات کے بعد جنوب وسطی ایشائی ممالک کے خصوصی امریکی مندوب رابرٹ بلیک نے کہا کہ بشکیک حکومت نے ان فسادات کے بارے میں تحقیقات کے لئے رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔
بشکیک کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلیک نے کہا: ’’ عبوری حکومت نےمجھے یقین دلایا ہے کہ وہ ان فسادات کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کی ایک با اعتماد ٹیم بعد ازاں ان تحقیقات کی جانچ پڑتال کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے فسادات دوبارہ وقوع پذیر نہ ہوں۔
رابرٹ بلیک نے کہا کہ عبوری حکومت کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ ملکی اورغیرملکی سطح پر مہاجرت اختیار کرنے والے چارلاکھ افراد کی گھر واپسی کے لئے ایک ساز گارماحول پیدا کرے۔
رابرٹ بلیک نے کرغز عبوری صدر روزا اوتُنبائیوا سے ملاقات کے دوران کہا کہ واشنگٹن حکومت بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے گھروں میں محفوظ واپسی کے لئے بشکیک حکومت کی بھرپور مدد کرے گی۔
رپورٹ : عاطف بلوچ
ادارت : عاطف توقیر