میرکل سے ٹرمپ کی ایک مشکل ملاقات
27 اپریل 2018جرمن چانسلر انگیلا میرکل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوسری ملاقات کے لیے آج جمعہ ستائیس اپریل کو امریکا پہنچ رہی ہیں لیکن برلن حکومت نے اس ملاقات سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی ہیں۔ ایک حکومتی عہدیدار کا تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ برلن پہلے ہی امریکا کے ساتھ ایک ممکنہ تجارتی جنگ کے لیے خود کو تیار کر چکا ہے۔ اس عہدیدار کے مطابق امریکا کی طرف سے جرمن اسٹیل اور المونیم کی مصنوعات کی درآمد پر اضافی ٹیکس فی الحال یکم مئی سے عائد نہیں کیا جائے گا اور چانسلر میرکل کی بھی مکمل کوشش ہو گی کہ ممکنہ ’تجارتی کشیدگی‘ کے راستے بند کر دیے جائیں۔ دریں اثناء واشنگٹن نے بھی کہا ہے کہ وہ فی الحال ’استثنائی بنیادوں پر‘ محصولات عائد کرنے کی تاریخ میں مزید توسیع کر سکتا ہے۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل صدر ٹرمپ کے ساتھ ان مشکل موضوعات پر بھی گفتگو کریں گی، جن کے حوالے سے فرانسیسی صدر اپنے تین روزہ دورہ امریکا کے دوران کوئی بڑی پیش رفت نہیں دکھا سکے تھے۔ فرانسیسی صدر کا امریکی دورہ ’انتہائی دوستانہ‘ تھا لیکن امریکی گانگریس سے ان کا خطاب حیران کن تھا، جس میں انہوں نے ’امریکا میں قوم پرستانہ سوچ‘ کی واپسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ براہ راست امریکی صدر اور ان کے حامیوں پر تنقید تھی۔
فرانسیسی صدر کے پاس تین دن تھے لیکن چانسلر میرکل کے پاس صرف چند گھنٹے ہیں، جن کے دوران وہ ان تمام مشکل موضوعات پر بات کرنا چاہتی ہیں، جو امریکا اور جرمنی کے درمیان اختلافات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی صدر کی طرف سے یورپی معاشرتی اقدار اور نیٹو کی اہمیت کے حوالے سے امریکا میں دیے گئے بیانات کو جرمن چانسلر کی تائید بھی حاصل ہے اور اسی وجہ سے میرکل اور ماکروں کو یورپ کی ایک ٹیم تصور کیا جاتا ہے۔ یہ میرکل ہی تھیں، جنہوں نے گزشتہ برس ٹرمپ سے ملاقات کے بعد یہ بیان دیا تھا، ’’وہ وقت گزر چکا ہے، جب جرمنی امریکا پر مکمل انحصار کر سکتا تھا۔‘‘
امریکا اور یورپ کے مابین اس وقت ایران ایک اہم موضوع ہے۔ میرکل اور ماکروں ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کو ناکامی سے بچانا چاہتے ہیں لیکن امریکی صدر اس کے مخالف ہیں۔ فرانسیسی صدر کا واشنگٹن سے رخصت ہوتے ہوئے کہنا تھا، ’’میرا نہیں خیال کہ امریکا اب ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حق میں ہے۔‘‘
ٹرمپ اور میرکل کے درمیان ایک اور مشکل موضوع جرمن دفاعی اخراجات بھی ہوں گے۔ امریکی صدر نیٹو کے رکن ملکوں پر دباؤ ڈالے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد حصہ اس اتحاد کے دفاعی اخراجات کے لیے خرچ کریں۔ جرمن حکومت کے مطابق وہ کوشش کے باوجود فی الحال دفاعی اخراجات میں کافی زیادہ اضافہ کرتے ہوئے نیٹو کے بجٹ کے لیے یکدم دو فیصد کے برابر ادائیگیاں نہیں کر سکتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چانسلر میرکل کے اس دورے کے نتائج امریکا اور جرمنی کے مشترکہ مستقبل کے لیے بہت اہم ہوں گے اور اس پر اثر انداز بھی ہوں گے۔