’منٹو‘ پاکستان میں آج بھی پابند
14 دسمبر 2018پاکستانی کے مرکزی فلم سینسربورڈ کے چیئرمین دانیال گیلانی نے ڈی ڈبلیوکو بتایا کہ فلم ’منٹو‘ کو سینسر سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مرکزی سینسر بورڈ کے اراکین کے مطابق یہ فلم پاکستان کے فلم سینسر بورڈ کے مروجہ قوانین (سینسر بورڈ کوڈ) کے خلاف ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس فلم نے سینسر بورڈ کوڈ کی مکمل یا پھر کسی مخصوص حصے کی ورزی کی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کسی بھی دوسرے ملک میں بننے والی فلم کو درآمد کےبعد سنیما میں نمائش کے لیے سینسر بورڈ سے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی بھارتی فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہ دی گئی ہو۔ صرف گزشتہ دو سال کے دوران شاہ رخ خان اور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی فلم ’رئیس‘، سلمان خان کی فلم ’ٹائیگرزندہ ہے‘ اور پاکستانی اداکارہ مومل شیخ کی بھارت میں بننے والی فلم ’ہیپی بھاگ جائےگی‘ سمیت کئی فلمیں ایسی ہیں جنہیں سینسر سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ ’منٹو‘ میں منٹو کا کردار مشہور اداکار نواز الدین صدیقی نے ادا کیا ہے جب کہ اس کی مصنف اور ہدایتکارہ بھارت کی ممتازسماجی کارکن نندیتا داس ہیں۔
یہ فلم بھارت میں رواں برس ستمبر میں ریلیز ہوئی تھی تاہم کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے پاکستان میں درآمد نہیں کیاجاسکا تھا۔
تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے جانے کے بعد بالآخر جب منٹو کو پاکستان میں ریلیز کیا جانے لگا تو سینسر بورڈ نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
اس بارے میں جب اس فلم کی پاکستان میں ڈسٹری بیوشن کمپنی جیو فلمز سے رابطہ کیا گیا تو انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ فلم پاکستان میں ریلیز ہوجائے مگر ایسا نہ ہونے کا انہیں افسوس ہے۔ تاہم انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف فُل بورڈ ریویو کی اپیل نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستانی سینسر بورڈ کے قوانین کے مطابق اگر کسی فلم کو سینسر سرٹیفیکیٹ نہ مل سکے یا کسی حصے کو حذف کرنے کا کہا جائے تو مقامی ڈسٹری بیوٹر، پروڈیوسر یا ہدایتکار اس کے فُل بورڈ ریویو کے لیے درخواست کرسکتا ہے اور اگر فُل بورڈ کے فیصلے پر بھی اسے اعتراض ہو تو وہ وزارتِ اطلاعات کے اپیلیٹ سیکشن کے سامنے اس کی اپیل کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے ایسا ہی پاکستانی فلم ’ورنہ‘ کےساتھ ہوا تھا جب اسے پہلے دونوں مرحلوں پر سینسر سرٹیفیکیٹ نہیں مل سکا تھا تاہم وزارتِ اطلاعات میں اپیل کرنے پر اس وقت کی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے اس فلم کو بغیر کسی ردّوبدل کے نمائش کی اجازت دے دی تھی۔
اس بارے میں جب بھارتی فلم منٹو کی مصنفہ اور ہدایتکارہ نندیتا داس سے رابطہ کیا تو انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں اس بات سے شدید مایوسی ہوئی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ منٹو پاکستان اور بھارت دونوں کا اثاثہ ہیں اور سرحد کے دونوں جانب رہنے والوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ منٹو کی کہانی دیکھ سکیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی فلم اب نیٹ فلکس پر دستیاب ہے اور اگرچہ یہ ایسا ذریعہ نہیں جس تک عام آدمی کی رسائی ہو تاہم کچھ نہ ہونے سے پھر بھی یہ عمل بہت بہتر ہے کہ یہ پیغام عوام تک پہنچ رہا ہے۔
اس ضمن میں پاکستانی مصنف، اداکار وہدایتکارسرمد کھوسٹ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ جو کچھ ’ٹھنڈا گوشت‘ کے ساتھ اُس زمانے میں ہوا، آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم آج بھی اس زمانے میں کھڑے ہیں اور لگتا ہے کہ ذہنی سطح وہیں کی وہیں ہے۔
یاد رہے کہ 2015 میں پاکستان میں مصنف اور ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے بھی سعادت حسن منٹو پر فلم ’منٹو‘بنائی تھی ، جس میں منٹو کا کردار انہوں نے خود ہی ادا کیا تھا۔
سرمد کھوسٹ نے مزید کہا کہ ہم فن کار یا ادیب کو بعد از مرگ ایوارڈ دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس کا ازالہ کرلیا ہے، جیسے ’سعادت حسن منٹو‘ کو ان کی وفات کے 57 سال بعد تمغہء حسن کارکردگی دیا گیا۔
سرمد کھوسٹ نے کہا کہ اس کے لیےپنجابی میں مِثال دی جاتی ہے کہ ’گونگلو سے مٹی جھاڑنا‘، تو یہ سب شلجم سے مٹی صاف کرنے کر رہے ہیں۔