مالدیپ: کل کا قیدی، آج کا حکمران
29 اکتوبر 2008چند برسوں قبل کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ایشیا کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیّوم کو مالدیپ کا ایک سابقہ سیاسی قیدی محمّد نشید اقتدار کی کرسی سے محروم کردے گا۔ مگر اب یہ امر بھی تاریخ کا حصّہ بن چکا ہے۔
محمّد نشید نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دورانِ قید اپنے اوپر کیے گئے تشدّد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتقام پر یقین نہیں رکھتے کیوں کہ انتقام جمہوریت کے لیے مددگارنہیں ہوگا۔
اکتالیس سالہ محمّد نشید نے بین الاقوامی برادری کو مالدیپ میں اصلاحات کرنے اور زرائع ابلاغ کی آزادی کی یقین دہانی کروائی ہے۔
دوسری جانب مامون عبالقیّوم نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے نشید کو اقتدار کی منتقلی میں اپنے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
جزائر پر مبنی مالدیپ ایک سنّی اکثریتی ملک ہے جہاں تقریباً تین لاکھ افراد آباد ہیں۔ اس سے قبل مالدیپ میں کبھی بھی کثیر الجماعتی انتخابات نہیں ہوئے تھے۔ اکہتر سالہ عبدالقیّوم انیس سو اٹہتر سے بلا شرکتِ غیرمالدیپ یر حکمرانی کرتے رہے۔