’عراق میں اسلامک اسٹیٹ کو شکست دے کر رہیں گے‘
23 جولائی 2015ایشٹن کارٹر ایک ایسے وقت عراق پہنچے ہیں جب عراقی فورسز سُنی اکثریت والے صوبے انبار کو داعش کے قبضے سے چھُڑا کر دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کی کوششوں میں پیشقدمی کر رہی ہیں۔
کارٹر رواں برس فروری میں امریکا کی وزارت دفاع کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلی بار شورش زدہ عرب ریاست عراق پہنچے ہیں جہاں وہ امریکی فوج کے کمانڈرز، عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی اور دیگر عراقی سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ کارٹر کا عراق کا یہ دورہ عین ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب عراقی فورسز رمادی میں اسلامک اسٹیٹ کو ایک فیصلہ کُن ضرب لگتے ہوئے اس علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کے لیے تیاریاں مکمل کر چُکی ہیں۔ امریکی فورسز کی قیادت میں فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ رمادی کا پہلے مکمل محاصرہ کر لیا جائے گا اُس کے بعد ایک بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
اسلامک اسٹیٹ نے دو ماہ قبل صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی کو اپنے قبضے میں لیتے ہوئے بغداد سے مغرب کی طرف وادیٗ فرات تک اپنا کنٹرول وسیع کر لیا تھا۔ داعش کی یہ پیشقدمی عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی اور اُن کی فوج کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوئی تھی۔
ایشٹن کارٹر کا جو عراقی فورسز کو رمادی میں اسلامک اسٹیٹ کےخلاف نبرد آزما ہونے سے گریز کرنے کے ضمن میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، عراق کے اپنے دورے کے بارے میں کہنا تھا،’’ میں از خود عراق میں جاری سُنی عسکریت پسندوں کے خلاف مہم کا جائزہ لینے اور وہاں کے زمینی حقائق جاننا چاہتا ہوں‘‘۔
عراق پہنچنے پر کارٹر نے سب سے پہلے بغداد میں قائم عراق کی انسداد دہشت گردی کی سروس اکیڈمی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کالی وردی والے CTS فوجیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکی وزیر نے عراق کی ایلیٹ فورسز کی تعریف کی اور میدان جنگ میں ان فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا،’’ آپ کے فوجیوں نے نہایت بہادری اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے‘‘۔ ایشٹن کارٹر نے امید ظاہر کی کہ عراق سے آخر کار اسلامک اسٹیٹ کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔
عراق میں اسلامک اسٹیٹ کی بپا کی ہوئی شورش کے جواب میں گزشتہ ماہ امریکی صدر باراک اوباما نے عراق کے تقدم بیس پر مزید 450 امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے تھے۔ یہ فوجی اڈہ رمادی سے محض 15 میل یا 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
تقدم بیس کے لیے فوجی نفری میں اضافے کا مقصد اُس علاقے کے مقامی سُنی قبائل کو آئی ایس کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کی رغبت دلانا اور عین الاسد اور انبار میں جاری سُنی عسکریت پسندوں کے خلاف مہم کی تکمیل کی کوشش بھی ہے۔