شامی صوبے حمص کے شہر مہین پر داعش کا قبضہ
1 نومبر 2015لبنانی دارالحکومت بیروت سے اتوار یکم نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ مہین کا شہر صوبے حمص کے جنوب مغرب میں واقع ہے جس پر اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے جہادی آج اتوار کی صبح قبضہ کر لینے میں کامیاب ہو گئے۔
اس قبضے کی تصدیق داعش کے جہادیوں نے بھی کی ہے جبکہ شامی اپوزیشن کی ایک تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی کہا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے جہادی مہین پر قابض ہو گئے ہیں۔ داعش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عسکری حوالے سے اس اہم قصبے پر قبضے‘ کے بعد وہاں سے حکومت نواز فائٹرز کے کافی ہتھیار بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
مہین پر قبضے کے لیے جہادیوں نے وہاں دمشق میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے حامی فائٹرز پر ایک بڑا حملہ بھی کیا۔ اس حملے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی میں روئٹرز کے مطابق اطراف کے کم از کم 50 جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے۔
سیریئن آبزرویٹری کے مطابق اس شہر پر قبضے کے بعد داعش کے جہادی اب اس مرکزی شاہراہ سے محض 20 کلومیٹر یا 13 میل دور رہ گئے ہیں، جو ملکی دارالحکومت دمشق کو حمص اور شمال میں کئی دیگر اہم شہروں سے ملاتی ہے۔
دیگر رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ مہین پر قبضے کی اپنی کوششوں میں داعش کے جہادیوں نے پہلے اس شہر میں ہفتے کو رات گئے دو خود کش کار بم حملے کیے، جن کے بعد آج صبح لڑائی کے نتیجے میں وہ مہین پر قابض ہو گئے۔
روئٹرز کے مطابق حمص میں مہین کے شہر کے قریب ہی آج اتوار کو صدد کے مضافات میں بھی اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں اور حکومت نواز فائٹرز کے مابین جھڑپیں جاری رہیں۔ داعش کے جنگجو اس قصبے کی طرف بھی اپنی پیش قدمی جاری رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ مہین کے نواح میں واقع صدد کی آبادی میں اکثریت کا تعلق شامی مسیحی برادری سے ہے۔
شام میں دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے بڑے گڑھ ملک کے شمال اور مشرق میں ہیں۔ تاہم اسی سال پالمیرا کے تاریخی شہر پر قبضے کے بعد سے داعش نے صوبے حمص میں اپنی کارروائیاں اور جہادیوں کی تعداد کافی بڑھا دی تھی۔ اس کے علاوہ یہ جہادی مہین سے صرف 15 کلومیٹر دور ایک اور قصبے القریتین پر بھی قبضہ کر چکے ہیں۔