شام میں تعینات روسی فوج میں کمی کا سلسلہ شروع
6 جنوری 2017ماسکو سے روسی وزرت دفاع کے اعلان کے مطابق مسلح تنازعے کے شکار ملک شام میں متعین روسی فوج میں کمی کے پلان پر آج جمعہ، چھ جنوری سے عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں روس کا طیارہ بردار جنگی بحری ایڈمرل کُزنیٹسوو واس روانہ ہو گیا ہے۔ اس جنگی بحری جہاز کی فلیٹ میں چھوٹی جسامت کے ڈیسٹرائیر اور جنگی بحری جہاز بھی شامل ہیں۔
ماسکو سے وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ شام میں فوج کے حجم میں کمی کا فیصلہ روسی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر صدر ولادیمیر پوٹن کے ایک فیصلے کا نتیجہ ہے۔ روسی صدر کے فیصلے کا اعلان فوج کےچیف آف جنرل اسٹاف جنرل والیری گیراسیموف نے کیا۔ یہ امر اہم ہے کہ شامی تنازعے میں روس نے واضح انداز میں شام کی سفارتی و جنگی محاذوں پر ہر ممکن مدد جاری رکھی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقی حلب پر حکومتی فوج کی کامیابی کے بعد دمشق حکومت اور باغیوں کے ساتھ فائربندی طے پانے پر روسی صدر سے فوج کے حجم میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ ماسکو نے شامی باغیوں پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ ستمبر سن 2015 میں شروع کیا تھا۔ شام کے مسلح تنازعے میں شریک روس کے فضائی مشن کے دو طیارے تباہ بھی ہوئے ہیں۔ ایک کو ترک لڑاکا طیاروں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا تھا جبکہ دوسرا بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہوا۔ دونوں جنگی طیارے Su 33 طرز کے تھے۔
شام میں روسی فوج کے کمانڈر آندری کارٹاپولوف کا کہنا ہے کہ جنگی بحری جہاز کی تعیناتی کی وجہ مشرقی حلب کے قابض باغیوں کو پیچھے دھکیلنا تھا۔ کارٹاپولوف کے مطابق مشن کی کامیابی سے تکمیل ہو گئی ہے اور اب اُس کی واپسی کا وقت آ گیا ہے۔
روس کے سینیئر فوجی افسر کارٹاپولوف کے مطابق شام میں روس کا ایئر ڈیفنس نظام ابھی متعین ہے۔ روسی میزائل شکن نظام S-300 اور S-400 شامی شہر الاذقیہ کے ارگرد پھیلی پہاڑیوں پر نصب کیے گئے ہیں۔