تھیلیسیمیا کی روک تھام کا عالمی دن
8 مئی 2014سول ہسپتال کراچی میں تھلیسیمیا کے شکار بچوں کی دلجوئی کے لیے کیک کاٹا گیا اور رنگارنگ تقاریب سجائی گئیں۔ اس تقریب میں بچوں کے ہمراہ ان کے والدین کو بھی مدعو کیا گیا اور گنتی کے دنوں کی زندگی لے کر آنے والے بچوں کو تفریح بھرے لمحات فراہم کیے گئے، ساتھ ہی ساتھ شہر میں مختلف جگہوں پر تھلیسیمیا اسکریننگ ٹیسٹ کے کیمپ بھی بڑی تعداد میں لگائے گئے، تاہم اس موذی بیماری سے متاثرہ بچوں کو سال میں ایک دن نہیں بلکہ ہمہ وقت توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان بچوں کی زندگی کا دارومدار خون کی تبدیلی پر ہوتا ہے، انہیں ہر پندرہ دن بعد خون کی تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے، یہ مرض والدین کے لیے کڑا امتحان تب بن جاتا ہے جب اُن کے بچے کا بلڈ گروپ نایاب ہو۔ ایسے میں ہر پندرہ دن بعد خون کا انتظام کرنا کوہ نور تلاش کرنے کے مترادف ہے۔
متاثرہ بچوں کے والدین نے بتایا کہ انہیں معلوم ہی نہ تھا کہ خاندانی شادی ان کے جگر گوشے کو اس بیماری میں مبتلا کرسکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر مناسب آگاہی ہوتی تو ضرور قبل از نکاح اسکریننگ ٹیسٹ کراتے، لیکن اب ساری توجہ بچوں کے علاج معالجے پر مرکوز ہے۔
اگر تھیلسیمیا سے متاثرہ بچوں کو مقررہ وقت پر خون کی فراہمی یقینی نہ بنائی جائے تو ان بچوں کے خون میں موجود ہیموگلوبن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی پریشانی یہیں ختم نہیں ہوتی، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی کہتے ہیں کہ تھلیسیمیا کے شکار بچوں میں بار بار خون منتقل ہونے سے ان کے خون میں فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے، اگر فولاد کی اس مقدار کو قابو نہ کیا جائے تو بچوں کے اندرونی جسمانی اعضاء خراب ہونے کے خطرات ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو نسل در نسل پھیلتی ہے۔ معالجین کے نزدیک خون کی یہ بیماری خاندان میں ہونے والی شادیوں یعنی کزن میرج کی وجہ سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ تھلیسیمیا مائنر کی شادی اگر تھلیسیمیا مائنر سے کرادی جائے تو ہونیوالی اولاد کے تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہونے کے امکانات 80 فیصد ہوتے ہیں۔ اس بیماری سے بچاؤ کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے احتیاط ۔ اگر شادی سے قبل جوڑے کی تھیلیسیمیا اسکریننگ کرالی جائے تو مستقبل کی نسلوں کو اس موذی مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔
صحت کی سہولیات ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سندھ اسمبلی میں شادی سے قبل تھلیسیمیا ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کی قرارداد تاحال ایوان کی منظوری کی منتظر ہے تاہم یہ ایکٹ منظرعام پر آچکا ہے، اس ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے نہ تو نکاح نامے میں کوئی نئی شق شامل کی گئی ہے اور نہ ہی اس کے نفاز کے لیے کسی قسم کا اقدام دیکھنے میں آرہا ہے۔
عمیر ثناء فاؤنڈیشن کراچی میں تھلیسیمیا سینٹر چلارہی ہے اور یہ اس اعتبار سے مستند اور با اعتماد ادارہ ہے، عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر عبید ہاشمی کے مطابق ملک میں کل ایک لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ اس حساب سے یہ مرض پاکستان کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ نہ تو اکیلی حکومت اس موذی مرض کا جڑ سے خاتمہ کرسکتی ہے اور نہ ہی عوام تن تنہا یہ کارپرخار انجام دے سکتے ہیں، صرف اور صرف مشترکہ کوششیں ہی اس مرض کے خلاف جنگ میں کارگر ثابت ہوسکتی ہیں۔