بیت الخلاء میں خفیہ کیمرے خواتین کے لیے دردِ سر
18 اکتوبر 2016خواتین کے ایک خالی بیت الخلاء میں پارک کوانگ می ہاتھ میں پکڑے ایک ڈی ٹیکٹر کو ہرطرف اچھی طرح گھما کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کہیں وہاں کوئی خفیہ کیمرہ تو نصب نہیں ہے۔؟
انچاس سالہ کوانگ می نے سیول کے ایک میوزیم میں درجن بھر ٹوائلٹس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنےکے بعد خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ یہ چیک کرنا میرے فرائض میں شامل ہے کہ کہیں بیت الخلاء میں خواتین کی فلم بنانے کی غرض سے کوئی خفیہ کیمرہ تو نصب نہیں کیا گیا۔‘‘ کوانگ می کا کہنا تھا کہ،’’ یہ بہت عجیب بات ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ایسا کچھ دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ بہت ضروری ہے کہ خواتین خود کو غیر محفوظ تصور نہ کریں۔‘‘
کوانگ می سیول شہر کی خواتین کے اُس کلب کی ایک نمایاں کارکن ہے جو خفیہ کیمروں سے بنائی گئی فحش ویڈیوزکے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ جنوبی کوریا اپنے جدید اسمارٹ فونز پر فخر کرتا ہے۔ یہاں پچاس ملین کی آبادی کا تقریباﹰ نوے فیصد حصہ اسمارٹ فونز استعمال کرتا ہے۔ اسمارٹ فونز کے استعمال کی یہ شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
تاہم اسمارٹ فون کلچر نے یہاں اِس کے غلط استعمال کو بھی رواج دیا ہے۔ بہت سے مرد حضرات کپڑے تبدیل کرنے کے کمروں یا خواتین کی جائے ضرورت میں خفیہ کیمروں کے ذریعے نا مناسب ویڈیوز بنا تے ہیں۔ بعد میں یہ ویڈیو انٹر نیٹ کی ایسی سائٹس پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں جو خاص طور پر ایسے ہی نا مناسب مواد کے لیے بنائی گئی ہوں۔
مقامی زبان میں انہیں ’مولكا‘ سائٹ کہتے ہیں۔جنوبی کوریا میں پولیس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مولكا جرائم میں 2010 ء سے 2014 ء کے درمیان چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ سیول میں پولیس کا میٹرو اسکواڈ سن انیس سو ستاسی میں سب وے جرائم کے سدّ باب کے لیے قائم کیا گیا تھا تاہم اب یہ محکمہ مولکا کرائمز سمیت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملات سے نمٹنے کا فریضہ انجام دینا ہے۔