غزہ جنگ:اسرائیلی فورسز نے شہری ہلاکتوں کا خیال نہیں کیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل
5 نومبر 2014خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لندن میں قائم انسانی حقوق کے واچ ڈاگ ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ میں غزہ جنگ کے دوران ’دہلا دینے والے‘ انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش نہیں کر سکا ہے۔
ایمنسٹی نے اپنی اس رپورٹ میں ایسے آٹھ واقعات کی مثالیں بھی دی ہیں، جن میں اسرائیلی فورسز نے ’پیشگی اطلاع دیے بغیر‘ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق صرف انہی واقعات میں 104 فلسطینی مارے گئے، جن میں 62 بچے بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کی طرف سے متعدد مرتبہ بڑے پیمانے پر ایریل بمباری کا اشارہ بھی ملتا ہے، جس نے مکانات کو مسمار کر دیا۔ ایمنسٹی نے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس طرح کے فضائی حملوں کے نتیجے میں کئی واقعات میں پورے کے پورے گھرانے ہی مارے گئے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران کچھ واقعات میں اسرائیلی فوج نے ممکنہ طور پر اہداف بنائے ’لیکن شہری آبادی پر کیے گئے حملے واضح طور پر مایوس کن ہیں‘۔ رپورٹ کے مطابق جب اسرائیلی فوج غزہ کے کسی رہائشی علاقے میں کوئی ممکنہ فوجی ہدف کے حصول میں ناکام رہی تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس نے ’براہ راست اور دانستہ طور پر شہریوں اور ان کی املاک کو بھی نشانہ بنایا، جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے‘۔
اس رپورٹ میں ایمنسٹی نے فلسطینی جنگجوؤں پر بھی جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس تنازعے میں حماس اور دیگر فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیل میں راکٹ حملوں کی بارش کر دی تھی، جن کے نتیجے میں ایک بچے سمیت چھ اسرائیلی شہری بھی مارے گئے تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ ایمنسٹٰی نے یہ رپورٹ غزہ جائے بغیر ہی ترتیب دی ہے کیونکہ اسرائیل نے اس کے اہلکاروں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔
اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ایمنسٹی نے اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ایمنسٹی کی یہ رپورٹ ’حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے پراپیگنڈا کی حمایت‘ کرتی ہے۔ یاد رہے کہ اس حالیہ جنگ کے کے تناظر میں اسرائیلی حکومت خود بھی ایک تفتیش کر رہی ہے، جس میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے ممکنہ طور پر رونما ہونے والے نوے ایسے واقعات کی چھان بین کی جا رہی ہے، جنہیں عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔