ايک ہفتے کے دوران ايک ہزار سے زائد مہاجرين ڈوب کر ہلاک
4 جون 2016ليبيا کے مغربی زوارہ شہر کے ساحل پر جمعے کے روز 117 افراد کی لاشيں مليں، جن ميں پچھتر عورتيں، چھ بچے اور چھتيس مرد شامل تھے۔ فلاحی ادارے ريڈ کراس کی ليبيا ميں قائم شاخ کے ترجمان محمد الموزراتی نے ہلاکتوں کی تصديق کرتے ہوئے بتايا کہ ان ميں سے تقريباً تمام کا تعلق افريقی رياستوں سے تھا۔ مقامی ريڈ کراس ميں ذرائع ابلاغ کے شعبے سے منسک ايک اور اہلکار نے بتايا ہے کہ مرنے والے بچوں کی عمريں سات سے دس برس کے درميان تھيں۔
بحيرہ روم ميں مہاجرين سے لدی کشتياں ڈوبنے کا يہ تازہ ترين واقعہ ہے۔ بہتر زندگی کے تعاقب ميں خطرناک سمندری راستوں کے ذريعے شمالی افريقہ سے يورپ کا سفر کرتے ہوئے سينکڑوں مہاجرين اپنی جانيں گنوا چکے ہيں، پچيس مئی سے اب تک قريب ايک ہزار سے زائد افراد بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہيں۔ بہتر موسمی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانوں کے اسمگلر ان دنوں ليبيا سے ہزارہا مہاجرين کو خطرناک کشتيوں پر يورپ بھيجنے کی کوشش میں ہيں۔ امدادی کارروائيوں ميں ملوث اہلکاروں کے بقول اس بات کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے کہ ليبيا سے کتنی کشتياں روانہ ہو رہی ہيں اور ان ميں سے کتنی اپنی منزل تک پہنچ پاتی ہيں اور کتنی سمندر ميں ڈوب جاتی ہيں۔
دريں اثناء يونانی جزيرے کريٹ سے قريب پچھتر سمندری ميل کے فاصلے پر جمعے کے روز ايک اور کشتی ڈوب گئی۔ يونانی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے ميں 340 افراد کو بچا ليا گيا جبکہ نو لاشيں برآمد ہوئيں۔ کوسٹ گارڈز کے مطابق قريب پچيس ميٹر لمبی اس کشتی کو جب ديکھا گيا، تو يہ بين الاقوامی سمندری حدود ميں آدھی ڈوب چکی تھی۔ بچائے جانے مہاجرین کو اٹلی کے علاوہ مصر، ترکی اور مالٹا ميں مختلف مقامات پر منتقل کيا جا رہا ہے۔ کوسٹ گارڈز کے ترجمان نيکوس لاگاڈيانوس نے بتايا کہ اطلاع کے مطابق اِس کشتی پر چار سو سے پانچ سو افراد سوار تھے تاہم وہ اس تعداد کی تصديق نہيں کر سکتے۔ ان کے بقول امدادی کارروائياں ابھی جاری ہيں۔
ليبيا ميں زوارہ ميونسپل کونسل کی جانب سے ملکی حکام کی خاموشی اور عالمی رد عمل کے فقدان پر تنقيد کی گئی ہے۔